National News

قومی خبریں

December 19 2019 swat-post-calendar-detailed-judgment-of-treason-case-against-pervez-musharraf-has-been-issued

پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا

hello

اسلام آباد (ہم پاک آن لائن) خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کےخلاف سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا ۔فیصلہ دو ایک سے سنایا گیا اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے دیا جبکہ جسٹس نذر محمد نے سزائے موت کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کافیصلہ دیاجبکہ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے ،جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فیصلے میں لکھا ہے اگر پھانسی سے قبل پرویز مشرف فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی لاش کو لاکر3 دن ڈی چوک میں لٹکایاجائے جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے اس فیصلے سے اختلاف کیاہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کےخلاف سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا ۔فیصلہ دو ایک سے سنایا گیا اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے دیا جبکہ جسٹس نذر محمد نے سزائے موت کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں بری کردیا ہے انہوں نے اختلافی نوٹ میں لکھا استغاثہ اپنے کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے ،جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کافیصلہ دیا،فیصلے میں کہاگیا ہے کہ پرویز مشرف کو دفاع کا موقع دیا گیا،جمع کرائی گئی دستاویزات میں واضح ہے ملزم نے جرم کیا ،ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں،فیصلے میں مزید کہاگیا ہے کہ ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزائے موت دی جاتی ہے ۔

فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دیاگیا ہے اس کے علاوہ فیصلے میں کہاگیا ہے کہ پرویز مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کوقانون کے دائرے میں لایا جائے ،مفرورکرانیوالوں کے کریمنل اقدام کی تفتیش کی جائے ۔جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فیصلے میں لکھا ہے اگر پھانسی سے قبل پرویز مشرف فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی لاش کو لاکر3 دن ڈی چوک میں لٹکایاجائے.جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار کے مثالی سزا سے متعلق پیرا گراف سے اختلاف کیا اور کہا مثالی سزا کی قانون میں گنجائش نہیں ہے، یہ غیر آئینی ہوگی۔

 تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، پرویز مشرف کے کریمنل اقدام کی تفتیش کی جائے، آئین عوام اور ریاست کے درمیان معاہدہ ہے، استغاثہ کے مطابق ملزم مثالی سزا کا مستحق ہے، غداری کیس 2013 میں شروع ہو کر 6 سال بعد ختم ہوا، مشرف کو حق سے زیادہ شفاف ٹرائل کا موقع دیا، کیس کا ریکارڈ رجسٹرار کی تحویل میں رہے گا۔

 فیصلے میں بلیک لا ڈکشنری کا حوالہ بھی دیا گیا، بلیک لا ڈکشنری کے تحت غیر آئینی لفظ کی تشریح کی گئی، تفصیلی فیصلے میں آکسفورڈ ڈکشنری کا بھی ذکر کیا گیا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا اعلیٰ عدلیہ نے نظریہ ضرورت متعارف نہ کرایا ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، نظریہ ضرورت کے باعث یونیفارم افسر نے سنگین غداری کا جرم کیا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ جرم کا ارتکاب سنگین غداری کے جرم میں آتا ہے، آرٹیکل 6 عمرانی معاہدے کو چیلنج کرنیوالے کا مقابلہ کرتا ہے، آئین آرمی چیف کو کسی غیر آئینی اقدام کا اختیار نہیں دیتا، ایک لمحے کی بھی معطلی آئین کو اٹھا کر باہر پھینکنے کے مترادف ہے، ملک میں ایمرجنسی لگا کر آئین کو معطل نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ممبران افواج پاکستان سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی قسم کھاتے ہیں، حلف کے تحت ممبران افواج پاکستان آئینی بالادستی، ملک سے وفاداری کے پابند ہیں، افواج پاکستان کے ہر ممبر نے ملکی خدمت کی قسم کھائی ہوتی ہے، افواج کی اعلیٰ قیادت کے ہر ممبر نے آئین کا تحفظ نہ کر کے حلف کی خلاف ورزی کی۔