Column

کالم

April 20 2019 swat-post-calendar-the-virtues-of-fifteen-shuban

شبِ برأت کی فضیلت ومعمولات (فکرِ رضا) تحریر صاحبزادہ احمدرضا رمضانی ۔

hello

شبِ برأت کی فضیلت ومعمولات (فکرِ رضا) تحریر صاحبزادہ احمدرضا رمضانی ۔

اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ زندگی کا ہر ہر لمحہ ایک عظیم نعمت ہے، اور مزہ تب ہے کہ اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ اس زندگی کا ہرہر لمحہ اللہ رب العزت اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق اور ان کی رضا میں گزرے۔ اور جو عظیم نعمت[ زندگی] اس میں ہر سال کے دن اور راتوں میں شعبان کی مقدس ایک رات ”شب برأت “ ہے ، اور پندرھویں شعبان کا دن بڑی برکتوں کا دن ہے، امت محمدیہ پر اللہ رب العزت کی طرف سے کرمِ خاص ہےکہ اس نے شبِ برأت جیسی نورانی اور برکتوں والی رات سے سرفراز فرمایا، یہ رات ہر سال آتی ہے اور چلی جاتی ہے لیکن کتنے غافل اور کاہل ایسے لوگ ہیں جو اس کی قدر نہیں کرتے اور سو کر پوری رات گزارتے ہیں، اور اِن سے بد تر وہ لوگ ہیں جو اس مقدّس اور عظیم رات کو کھیل تماشوں اور لغویات کی نذر کر دیتے ہیں۔ ہاں بڑے خوش قسمت اور بڑے نیک بخت ہیں وہ اللہ کے اطاعت شعار بندے جو اس رحمت بھری اور نور نکہت میں ڈوبی ہوٸ شب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور اس عظیم رات میں اپنے مولاۓ کریم کو یاد کرتے ہیں، اس کی مقدس اور رحمت بھری بارگاہ سے برکت و نور کی خیرات مانگتے ہیں،اپنے گناہوں پر پشیمان و شرمندہ ہوکر توبہ و استغفار کرتے ہوۓ اس رات کو گزارتے ہیں، مساکین و غربا پر صدقات و خیرات بھی کرتے ہیں اور عزیز و اقربا کو تحاٸف سے بھی نوازتے ہیں اور ساتھ ہی شہرِ خموشاں میں آرام کرنے والے مرحومین و متعلقین کو بھی نہیں بھولتے ان کیلٸے فا تحہ و ایصال کا اہتمام کرتے ہیں، یقینًا زندوں کے ساتھ ساتھ اس دنیاۓ فانی سے کوچ کرنے والے ہمارے بھاٸ بھی ہمارے احسان و کرم اور امداد و نصرت کے مستحق ہیں لہذا مبارک راتوں اور مقدّس ایام میں ضرور انہیں یاد کرنا چاہیے۔ شبِ برأت : ماہِ شعبان کی پندرھویں رات کو شبِ برأت کہا جاتا ہے، شب کے معنی ہیں رات اور برأت کے معنی ہیں بری ہونے اور قطع تعلق کرنے کے ہیں چونکہ اس رات مسلمان تو بہ کرکہ گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اسی لٸے اس اس عظیم رات کو شبِ برأت کہا جاتا ہے۔ شبِ برأت کے فضاٸل: شبِ برأت کو خدا تعالٰی حضرتِ جبرٸیل کو جنت بھیجتا ہے اور وہ اسے حکم دیتے ہیں کہ آراستہ ہو اور کہتے ہیں آج کی رات خدا تعالٰی نے آسمانوں کے تاروں اور دنیا کے شب و روز کے برابر لوگوں کو آزاد کیا ہے[نزہتہ المجالس ] حکیم بن کیسان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نصف شعبان کی رات میں اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتے ہیں جو اس سے پاکی کا طلب گار ہوتا ہے اس کو پاک فرمادیتا ہےاور آٸندہ[اسی رات تک] پاک رکھتا ہے۔ شبِ برأت کی معمولات: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب شعبان کی پندرھویں شب آۓ تو اس رات میں عبادت کرو، غروبِ آفتاب کے وقت سے اللہ تعالٰی آسمانِ دنیا کی طرف رحمت کا نزول فرماتا ہے، رحمتِ الٰہی ندا دیتی ہے کون ہے طالبِ مغفرت جس کو بخشا جاۓ، کوٸ روزی کا خواستگار ہے اسے رزق دیا جاۓ، کون مصاٸب و آفات سے رستگاری کا آرزو مند ہے اس کی مشکلیں آسان کی جاٸیں، رحمتوں کی یہ منادی برکتوں کی یہ نچھاور طلوعِ سحر تک جاری رہتی ہے، یہ رات تقسیمِ رزق کی رات ہے، موت و حیات کے کاغزات دربارِ ایزدی میں پیش ہوتے ہیں، اس لٸے ضروری ہے کہ اس رات توبہ و استغفار میں گزارا جاۓ اور پندرھویں شعبان کا روزہ رکھا جاۓ اس میں اجرِ عظیم ہے۔ شبِ برأت و آتش بازی: شبِ برأت دوزخ کی آگ سے نجات اور چھٹکارے اور آزادی کی رات ہے، لیکن بد قسمتی سے شبِ برأت کی رات بعض جگہوں پر آتش بازی اور پٹاخے کا بہت رواج ہے یقینًا یہ ایک برا فعل ہے یہ ایک حرام کا اور جرم ہے یہ اسراف اور فضول خرچی ہے، اور فضول خرچی کرنے والا شیطان کے بھاٸ ہیں۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے۔ اور فضول نہ اڑا بیشک اڑانے والا شیطانوں کے بھاٸ ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اس عظیم رات اس طرح نہ گزاریں کہ تمہارا نام اس شیطان کے کاموں درج ہو بلکہ ذکرِ خدا اور ذکرِ رسولﷺ میں گزاریں کہ ہر ہر لمحہ ہمارے لٸے قیمتی سرمایہ ہو اللہ پاک ہم سب کو اس عظیم رات کے فیوض و برکات عطافرماۓ اور اللہ اک ہم سب کا حامی و ناصر ہو